نئی دہلی:13/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس صدر راہل گاندھی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے رافیل معاملے سے متعلق حلف نامے کو لے کر منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی پر نشانہ لگایا اور دعوی کیا کہ مودی نے فضائیہ سے پوچھے بغیر کنٹراکٹ بدلنے کی بات قبول کر لی ہے۔
گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ میں مودی جی نے مانی ہے اپنی چوری۔حلف نامے میں مانا ہے کہ انہوں نے بغیر فضائیہ سے پوچھے کانٹریکٹ بدلا اور30,000کروڑ روپیہ امبانی کی جیب میں ڈالا۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔
دراصل کانگریس صدر راہل گاندھی اور پارٹی گزشتہ کئی مہینوں سے یہ الزام لگارہے ہیں کہ مودی حکومت نے فرانس کی کمپنی دسالٹ سے 36 رافیل لڑاکا طیارے کی خریداری کا جو سودا کیا ہے اس کی قیمت پیشرو یوپی اے سرکار میں طیاروں کی شرح کو لے کر بنی رضامندی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔اس سے سرکاری خزانے کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔پارٹی نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سودے کو بدلوایااور ایچ اے ایل سے ٹھیکہ لے کر ریلائنس ڈیفنس کو دیا گیا۔حکومت نے ان الزامات کو سرے سے مسترد کیا ہے۔